کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو لوگ آپ کے خلاف بولتے ہیں ان کی زبان خود بخود بند ہو جائے اور ان کے دل میں آپ کے لیے نرمی پیدا ہو جائے تو یہ روحانی راز آپ کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے اور آپ وہ سکون پا سکتے ہیں جس کی آپ کو مدتوں سے تلاش ہے
جب زندگی میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ لوگ بلاوجہ مخالفت کریں بدنام کریں یا آپ کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں تو یہ صرف ظاہری معاملہ نہیں ہوتا بلکہ علم النجوم کے اصول کے مطابق یہ وقت کی گردش سیاروں کی تاثیر اور منفی روحانی لہروں کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ایسے اوقات میں انسان جتنا دنیاوی تدبیر کرتا ہے اتنا ہی وہ الجھتا جاتا ہے لیکن جب وہ روحانی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو کائنات اس کے لیے راستے خود بنانا شروع کر دیتی ہے اور وہی حالات جو اس کے خلاف ہوتے ہیں آہستہ آہستہ اس کے حق میں بدلنے لگتے ہیں
آپ کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ انسان کی زبان اس کے دل کی ترجمان ہوتی ہے جب دل میں حسد کینہ یا نفرت پیدا ہوتی ہے تو زبان سے تلخ الفاظ نکلتے ہیں اور یہی الفاظ انسان کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں لیکن جب دل نرم ہو جائے تو وہی زبان خیر اور محبت کا ذریعہ بن جاتی ہے اسی لیے یہ عمل صرف دشمن کی زبان بندی تک محدود نہیں بلکہ اس کے دل کی کیفیت کو بھی بدلنے کی ایک طاقتور روحانی چابی ہے
یہ وظیفہ ان مقدس آیات اور اسماء پر مشتمل ہے جو صدیوں سے اولیاء کرام اور اہل علم کے ذریعے آزمائے گئے ہیں ان الفاظ میں وہ روحانی قوت پوشیدہ ہے جو نہ صرف ظاہری حالات کو بدلتی ہے بلکہ باطنی دنیا میں بھی ایک ایسا ارتعاش پیدا کرتی ہے جس سے مخالف کی سوچ اور رویہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے جب آپ اسے پڑھتے ہیں تو دراصل آپ اپنی روح کو ایک ایسی طاقتور فریکوئنسی پر لے آتے ہیں جہاں دشمن کی منفی توانائی کمزور پڑنے لگتی ہے اور اس کے دل پر نرمی کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
بِحٙقّ ِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
یٙاسٙیِدٙ الکٙریمِ بِحُرمٙةِ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ
اِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَـهْزِئِيْنَ
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ
اٙللّھُمّٙ سٙھِل ویٙسّررَبّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْداً وَّاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ
حٙسبی عٙن سُوءٙ لِی عِلمِکٙ بِحٙالی سُبحٙانٙ القاھِرِ القٙادِرِ الکٙافِی
اس عمل کو کرنے کا طریقہ انتہائی سادہ مگر اثر کے لحاظ سے بے حد طاقتور ہے آپ نماز مغرب کے بعد سکون کے ساتھ کسی پاک جگہ پر بیٹھ جائیں اپنے دل کو دنیاوی خیالات سے خالی کریں اور مکمل توجہ کے ساتھ نو مرتبہ اس وظیفے کو پڑھیں پڑھتے وقت اپنے مخالف کا تصور کریں اور یہ یقین رکھیں کہ اس کے دل میں نرمی پیدا ہو رہی ہے اور اس کی زبان آپ کے خلاف بند ہو رہی ہے
یہاں ایک اہم روحانی نکتہ یہ ہے کہ مغرب کا وقت دن اور رات کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے علم النجوم میں اسے توانائیوں کے تبادلے کا لمحہ کہا جاتا ہے اس وقت کی گئی دعا اور وظیفہ کئی گنا زیادہ اثر رکھتا ہے کیونکہ اس لمحے کائناتی دروازے کھلے ہوتے ہیں اور روحانی لہریں اپنے عروج پر ہوتی ہیں اسی لیے اس عمل کو مغرب کے بعد کرنا انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے
جب آپ اس عمل کو مسلسل کرتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کے اندر ایک سکون اور اعتماد پیدا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ آپ کے اردگرد کا ماحول بدلنا شروع ہوتا ہے جو لوگ پہلے آپ کے خلاف تھے وہ خاموش ہونے لگتے ہیں اور جو سخت لہجے میں بات کرتے تھے ان کے انداز میں نرمی آنے لگتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات وہی لوگ آپ کے مددگار بھی بن جاتے ہیں
یہ بھی یاد رکھیں کہ روحانی اعمال میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ صبر اور یقین کے ساتھ اسے جاری رکھنا چاہیے کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے جب وہ اثر دکھاتی ہے جب آپ مستقل مزاجی کے ساتھ اس عمل کو جاری رکھتے ہیں تو کائنات آپ کے لیے ایسے راستے کھولتی ہے جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا
آپ کو اپنی نیت کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا دل میں کسی کے لیے نقصان یا بدلہ لینے کا جذبہ نہ رکھیں بلکہ صرف اپنی حفاظت اور بہتری کی نیت رکھیں کیونکہ روحانی قوانین کے مطابق جو نیت آپ رکھتے ہیں ویسا ہی اثر آپ کی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے اگر نیت پاک ہوگی تو نتیجہ بھی پاک اور مثبت ہوگا
یہ عمل نہ صرف دشمن کی زبان بندی کے لیے ہے بلکہ یہ آپ کے لیے ایک روحانی ڈھال بھی بن جاتا ہے جو آپ کو نظر بد حسد اور منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے اور آپ کے اردگرد ایک ایسا حصار قائم کرتا ہے جس میں کوئی بھی منفی طاقت آسانی سے داخل نہیں ہو سکتی
اگر آپ اس راز کو سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں تو نہ صرف آپ کے دشمن خاموش ہو جائیں گے بلکہ آپ کی زندگی میں سکون اعتماد اور کامیابی بھی آنا شروع ہو جائے گی اور آپ محسوس کریں گے کہ حالات آپ کے قابو میں آ رہے ہیں
یہ راز ان لوگوں کے لیے ہے جو خاموشی سے ظلم سہتے ہیں مگر دل میں امید رکھتے ہیں کہ ایک دن انصاف ہوگا اور یاد رکھیں جب انسان اللہ پر مکمل بھروسہ کر لیتا ہے تو پھر فیصلے زمین پر نہیں بلکہ آسمانوں پر ہوتے ہیں اور وہاں سے آنے والا فیصلہ ہمیشہ حق میں ہوتا ہے
www.hooatastro.com
