رزق اللّٰہ رب العزت کی وہ نعمت ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی زندگی کا سہارا ہے انسان کی عزت، اطمینان، عبادت کا ذوق، اور زندگی کی آسانی سب رزقِ حلال اور اس کی کشادگی سے جڑی ہوتی ہیں اسی لیے قرآنِ کریم میں جگہ جگہ رزق کو اللہ کے فضل سے تعبیر کیا گیا ہے اور تنگیِ رزق کو آزمائش قرار دیا گیا ہے
اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ
(سورہ الشوریٰ آیت 19)
یعنی اللّٰہ اپنے بندوں پر بڑا لطف فرمانے والا ہے جسے چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
یہ آیت رزق کی وسعت اور تنگی دونوں کے راز کو کھولتی ہے جب بندہ اللّٰہ رب العزت پر توکل کے ساتھ رزق کے اسباب میں کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے آسمان و زمین سے ایسے دروازے کھلنے لگتے ہیں جن کا وہ گمان بھی نہیں کرتا لیکن جب انسان شکایت، مایوسی اور نا شکری اختیار کرتا ہے تو یہی دروازے بند ہو جاتے ہیں اور تنگی اس کی آزمائش بن جاتی ہے
رزق کی کشادگی کے بے شمار فوائد ہیں جب اللّٰہ رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے تو دل میں سکون اترتا ہے، گھر میں برکت آتی ہے، تعلقات میں نرمی پیدا ہوتی ہے، صدقہ و خیرات آسان ہو جاتے ہیں اور عبادت میں دل لگنے لگتا ہے فراوانی رزق سے انسان کی عزت محفوظ رہتی ہے اور وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتا ہے رزق کی کشادگی دراصل اللّٰہ کی قربت اور خوشنودی کی علامت ہے
جبکہ تنگیِ رزق کے اثرات صرف جیب تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل و دماغ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں انسان کے چہرے سے اطمینان رخصت ہو جاتا ہے سوچوں میں خوف، حسد، مایوسی اور غصہ بڑھنے لگتا ہے گھریلو تعلقات میں جھگڑے پیدا ہوتے ہیں عبادت کا ذوق کم ہوتا ہے اور بندہ ہر وقت فکر و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے یہ تنگی اکثر اعمال، غفلت یا رزقِ حرام کے اثر سے بھی پیدا ہوتی ہے
اسی لیے علم النجوم اور روحانیت کے قانون کے مطابق عصر کا وقت رزق کی تقدیر بدلنے کا وقت مانا جاتا ہے کیونکہ سورج کے ڈھلتے لمحے میں قوتِ رزق کی توانائی زمین کی جانب مائل ہوتی ہے اس وقت اگر بندہ ایمان و یقین کے ساتھ اللّٰہ کے ان کلمات کو دہراتا ہے
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ
تو اس کے اردگرد کی توانائیاں مثبت ہو جاتی ہیں اور رزق کے دروازے کھلنے لگتے ہیں
عمل کا مکمل طریقہ یہ ہے کہ بعد نماز عصر باوضو حالت میں قبلہ رخ بیٹھیں اول و آخر گیارہ مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں اور درمیان میں سو بار یہ آیت مبارکہ یقین و خشوع کے ساتھ ادا کریں ہر بار یہ تصور رکھیں کہ اللّٰہ اپنی لطافت سے آپ کے رزق کے راستے ہموار کر رہا ہے عمل مکمل ہونے پر دعا کریں کہ اے ربّ لطیف جس طرح تو نے اپنے بندوں کے لیے زمین کو رزق کا ذریعہ بنایا ہے ویسے ہی میرے لیے رزقِ حلال اور برکت والا رزق آسان فرما دے
اگر یہ عمل اکیس دن تک مسلسل کیا جائے تو بند دروازے کھلنے لگتے ہیں، روزگار میں ترقی، کاروبار میں برکت، قرض سے نجات اور دل میں تسکین پیدا ہوتی ہے صدقہ کے طور پر جمعرات یا جمعہ کے دن کسی محنت کش یا سفید پوش شخص کو کھانا، آٹا یا پھل دینا اس عمل کی قوت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے
یاد رکھیں رزق کی کشادگی صرف دولت کا نام نہیں بلکہ اللّٰہ کا لطف، دل کا سکون، رشتوں کی ہم آہنگی، اور زندگی کی برکت کا نام ہے جو اس آیت کو اپنا معمول بنا لے اللّٰہ اس کے دل سے خوف نکال دیتا ہے اور اس کی تقدیر میں وسعت لکھ دیتا ہے
www.hooatastro.com
